مولانا فضل الرحمان کو اسلام آباد کون لایا ہے؟ سرگوشی میں کیے گئے سوال پر میں نے سرگوشی کی ” عمران خان لایا ہے ” ۔ سینئیر صحافی حامد میر کا کالم

: سینئیر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے اپنے حالیہ کالم میں جمیعت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ اور اس میں خواتین صحافیوں کے داخلے پر عائد پابندی سے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح انہوں نے خواتین صحافیوں کی شکایت جمیعت علمائے اسلام (ف) کی اعلیٰ قیادت تک پہنچائی جس کے بعد یہ مسئلہ حل کر دیاگیا اور خواتین صحافیوں کو جلسہ گاہ کے اندر یہاں تک کہ کنٹینر پر بھی جانے کی اجازت دی گئی۔
حامد میر نے اپنے کالم میں بتایا کہ نمازِ جمعہ کے بعد کنٹینر پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے قائدین اپنے سامنے موجود ایک بہت بڑے مجمعے کو حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ مسلم لیگ نکے ایک رہنما نے سرگوشی کے انداز میں پوچھا ’’مولانا کو اسلام آباد کون لایا ہے؟‘‘ میں نے سرگوشی میں جواب دیا۔

عمران خان لایا ہے۔ پھر اُس نے بےچینی کے ساتھ گھڑی کی طرف دیکھا اور پوچھا ’’کیا شہباز شریف صاحب یہاں آئیں گے؟‘‘ میں نے مُسکرا کر کہا فکر نہ کرو شہباز شریف کو عمران خان یہاں ضرور بھیجے گا۔

اُس نے پوچھا ”وہ کیسے؟” میں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے گلگت میں ساری کی ساری اپوزیشن کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کی ہے جو لوگ شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کو مولانا سے دور رہنے کا مشورہ دے رہے تھے وزیراعظم نے اُن کا کام مشکل کر دیا ہے آج یہاں شہباز بھی آئیں گے اور بلاول بھی رحیم یار خان کا جلسہ چھوڑ کر آئیں گے۔ حامد میر نے کہا کہ تھوڑی دیر میں شہباز شریف پہنچ چکے تھے اور ان کے پیچھے پیچھے بلاول بھی آ گئے۔
آزادی مارچ کے کنٹینر پر نو جماعتوں کی قیادت اکٹھی ہو چکی تھی اور ان سب کو یہاں اکٹھا کرنے کا کریڈٹ مولانا فضل الرحمٰن سے زیادہ عمران خان کو جا رہا تھا۔ حامد میر نے کہا کہ عمران خان کی اکھڑ پن، ضد اور انا پسندی نے اُنہیں ایک سال میں وہاں پہنچا دیا جہاں مشرف نو سال بعد پہنچے تھے۔ میں نے وزیر صاحب سے کہا کہ لیکن اسی ضد اور انا پسندی کی وجہ سے عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے، وہ سعد الحریری نہیں بنیں گے۔ وزیر صاحب نے میری رائے سے اتفاق کیا اور کہا کہ آج پاکستان کی سیاست میں پیدا ہونے والی نفرت اور کشیدگی کا خاتمہ نہ عمران خان کے بس کی بات ہے نہ کسی ادارے کے بس کی بات ہے، جو بھی کرنا ہے اپوزیشن کو کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں