سزا یافتہ مجرم کا گارنٹر ملزم (حامد بہلول)

سزا یافتہ مجرم کا گارنٹر ملزم

حامد بہلول _بالآخر سابق وزیراعظم 7 ارب کے بانڈ کی بجائے 50 روپے کا اشٹام پیپر دیکر لندن روانہ ہوگئے۔موصوف تین بار سلطنت خداداد پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے اور پھر کرپشن کے الزامات سچ ثابت ہونے پر جیل پہنچے۔بقول عدالت جس نے میاں نواز شریف کو مجرم ثابت کیا اس میں کوئی شک نہیں کہ شریف برادران یا زرداری جو کرپشن الزامات پر جیل میں ہیں کرپٹ ہیں لیکن یہ بھی کھرا سچ ہے کہ یہاں جو ایک بار کونسلر منتخب ہوجاتا ہے وہ رہتی زندگی تک اقتدار میں رہنے کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتا اور اپنی حیثیت اور عہدے کے مطابق خوب مال سمیٹتا ہے اگر آپ اس کا عملی ثبوت دیکھنا چاہیں تو اپنے آبائی حلقوں سے نسل در نسل منتخب ہونے والوں کے اثاثوں اور عیش و عشرت کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں اور یہاں بیوروکریسی کا ذکر نہ کیا جائے تو پورا سچ نہ لکھنے کے سبب اللہ کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔بیوروکریسی برابر کی حصہ دار رہتی ہے جب یہ لوگ اندھا دھند کرپشن کرتے ہیں، جب پیسہ ملک سے باہر جاتا ہے تو ایف بی آر،سٹیٹ بینک اور ایف آئی اے کدھر غائب ہوتی ہے۔یہ سب ملکی وسائل کو لوٹنے میں ان خاندانوں کے برابر شریک ہوتے ہیں لیکن ذمہ دار اور مجرم صرف سیاسی قیادت کو ٹھہرایا جاتا ہے۔نواز شریف کی اولاد اگر آج کھربوں کی مالک بنی ہے تو ایسا کیا ایک دن میں ہوگیا۔35 سال جس شخص کو عوام کا ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہو اور خود بھی اس پہ دست شفقت رکھا جائے تو ایسے میں اس ہیرو کو عوام کے دلوں میں زیرو ثابت کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔لوگ اسے سازش قرار دیتے ہیں اور مجرم کو مظلوم مانتے ہیں۔اور خاص طور پہ جب عوام کو یہ بھی پتہ ہو کہ یہاں ہیرو کو مجرم بنانا مشکل کام نہیں اور دوسری جانب 7 سال جیل میں رکھ کر باعزت بری کرکے صدر پاکستان بنادیا جاتا ہے تو کون دیوانہ ایسے نظام قانون و انصاف پہ یقین کرے گا۔جانور جتنا مرضی طاقتور ہو آپ اپنی ریاست میں قانون و انصاف کی حکمرانی کو یقینی بنائیں تو وہ کبھی جال کو پھاڑ نہیں سکے گا وگرنہ ہر دور کے کرپٹ نواز شریف جیل سے باہر اور باہر سے لندن جاتے رہیں گے۔اب یہاں ان کو بھی اپنی حیثیت کا اندازہ ہوجانا چاہیئے جو ببانگ دہل یہ دعوی کرتے رہے مرجائیں گے این آر او نہیں دیں گے۔پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے پوچھنے پہ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہمیں ضمانت پہ کوئی اعتراض نہیں تو ایسے میں عدالت کو مجرم ٹھہرانا کسی طور دانشمندی نہیں البتہ میں نے اپنی زندگی میں جو نئی چیز دیکھی وہ ہے ملزم کا سزا یافتہ مجرم کی گارنٹی دینا اور ریاست کے اہم ستون کا اس گارنٹی کو قبول کرکے سزا یافتہ مجرم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینا۔واہ رے انصاف میرا خیال ہے کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں