دیر آئید درست آئید

مریم طاہر
قیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عسکری ادارے اور سول حکومت جو کام آج کر رہے ہیں یہ اب سے بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا ۔ پاکستان میں بھارتی ایجنسی ”را“ کی مداخلت کے سدباب سمیت پاکستان سے دہشت گردی کے ناسو رکے خاتمے کی حتمی کوششیں ایک خوش آئند اقدام ہے ۔تاہم مقام حیرت ہے کہ ہمارے سول و عسکری اداروں کو یہ خیال اس قدر تاخیر سے کیوں آیا۔
پاکستان میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے ہمارے ادارے بخوبی آگاہ تھے اس کے باوجود اس اہم مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی داخلی سطح پراس کے تدارک کی مربوط کوششیں کی گئیں ۔ اسی طرح شہر کراچی میں بدامنی اور قتل و غارت گری کے اصل محرکات سے ہماری سکیورٹی فورسز واقف تھیں تاہم نجانے کس مصلحت کے تحت کراچی کی شورش اور بد امنی کو نظر انداز رکھا گیا ۔

ہمیں یاد ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت کے وزیر داخلہ رحمان ملک متعدد بار بلوچستان میں بھارتی ایجنسی ”را“کی مداخلت کے حوالے سے اظہار کر چکے ہیں اسی طرح سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی برملہ اظہار کیا کہ ان کے پاس پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں ۔ اس کے برعکس پاکستان میں تیسری بار وزیر اعظم بننے والے میاں محمد نواز شریف اپنی پہلی تقریر میں کہتے ہیں کہ عوام نے انہیں بھارت سے دوستی کا مینڈٹ دیاہے ۔
خرد کی گتھیاں مزید الجھتی جاتی ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت حقیقی معاملات اور مسائل سے اسقدر نابلد ہے کہ وہ ملک جو پاکستان کی سلامتی کا کھلا دشمن بنا بیٹھا ہے ہم اس کی دوستی میں دیدہ دل فرش راہ بنے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح کراچی کے معاملات میں سیاسی قیادت نے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور کراچی کو قاتلوں اور بھتہ خوروں کے حوالے کیے رکھا ۔ جنرل پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کے ساتھ جو دشمنی کی ہے ایم کیو ایم کو اس کا ادراک حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔
ایم کیو ایم مہاجر قومی موومنٹ سے متحدہ قومی موومنٹ بن چکی تھی اور کراچی سے باہر نکل کر دیگر صوبوں میں بھی اپنا اثر رسوخ قائم کرنے جارہی تھی ۔اس کی واضح مثال ایم کیو ایم کا آزاد کشمیر کے انتخابات میں ایک سیٹ حاصل کرنا تھا ۔ پنجاب کے اکثر اضلاع میں ایم کیو ایم کے دفاتر قائم ہو چکے تھے ۔ پھر نجانے جنرل پرویز مشرف کو کیا سوجھی کے جنرل صاحب نے ایم کیو ایم کو 12مئی کے روز کراچی میں قتل و غارت بپا کرنے کی ترغیب دی ۔
عقل سے عاری ایم کیو ایم کے قیادت نے اس مشورے کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور یہ فراموش کر بیٹھی کہ فوجی حکومتوں کو بلآخر رخصت ہونا ہوتا ہے ۔ جیسے ہی کراچی میں 12مئی کے روز قیامت صغریٰ بپا ہوئی فوراََ ہی ایم کیو ایم سمٹ کر واپس کراچی تک محدود ہوگئی ۔ ملک بھر میں پھیلے ہوئے دفاتر کا نیٹ ورک ختم ہوگیا اور ایم کیو ایم پھر سے کراچی کی جماعت بن گئی ۔
جب ایم کیو ایم کو یہ یقین ہوگیا کہ اب وہ کوشش کے باوجود بھی کراچی سے باہر نہیں نکل سکے گی تو انہوں نے ایک بار پھر نوے کی دہائی والا طرز عمل اختیار کیا اور خوف کی سیاست کو ترجیح دی ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایم کیو ایم کی سرگرمیوں سے صرف نظر کیا اور ”مفاہمت“کی سیاست کو”فروغ“دیا ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر داخلہ ذولفقار مرزا سر پر قرآن رکھ کر کہتے رہے کہ ایم کیو ایم غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے اس کے باوجود صوبائی یا وفاقی حکومت نے کسی نوع کا کوئی نوٹس نہ لیا ۔
ممکن ہے موجودہ حکومت بھی ایم کیو ایم کی گرفت نہ کرتی یا ایم کیو ایم کی سرگرمیوں کو نظرا نداز رکھتی مگر شو مئی قسمت کے سانحہ پشاور وقو ع پذیر ہوگیا ۔ واقفان حال کے مطابق سانحہ پشاور ہی وہ واقعہ تھا جس کے بعد پاکستان کے عسکری اداروں نے طے کر لیا تھا کہ اب پاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی سے پاک کرنا ہے۔
سلام ہو پاکستان کے عسکری اداروں پر جنہوں نے سیاسی مصلحتوں کو بلائے طاق رکھتے ہوئے بلا امتیاز کاروائیاں کیں اور وطن دشمن عناصر کی سرکوبی کی ۔
یہ سارا کریڈٹ پاکستان کے عسکری اداروں کو جاتا ہے جنہوں نے کراچی سمیت دیگر علاقوں میں بھارتی ایجنسی”را“کی کاروائیوں کے آگے بند باندھنے کا فیصلہ کیااور پاکستان سے دہشت گردی کے ناسور کی بیخ کنی کیلئے میدان میں آنے کا عملی مظاہرہ کیا ۔ مکرر عرض ہے کہ جو کام بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا وہ آج ہو رہا ہے تاہم اس بابت تسلی ہے کہ اب پاکستان کی سلامتی کیلئے کی جانے والی کوششیں یقینا ثمر بار ہونگی ۔
ضرورت اس امر کی ہے پاکستان کی سکیورٹی فورسز اسی انداز سے بلاتفریق دہشت گردوں کے خاتمہ تک یہ جنگ جاری رکھیں تاکہ سیاسی قیادت کے غلط فیصلوں کے نتیجے میں بپا ہونے والی شورش اور بد امنی کا خاتمہ ممکن ہو سکے .آخر میں محض یہ کہنا چاہوں گی پاک فوج کو اس اہم مسئلے کی جانب بہت دیر پہلے ہی فیصلہ کر لینا چاہئے تھاتاہم پھر بھی ”دیر آئید درست آئید “

اپنا تبصرہ بھیجیں