انٹرنیشنل جرنلسٹ سوسائٹی کی PEMRA پابندیوں کی شدید مذمت، پابندیاں آمرانہ اقدام مسترد کرتے ہیں۔ حامد بہلول

انٹرنیشنل جرنلسٹ سوسائٹی کی PEMRA پابندیوں کی شدید مذمت، پابندیاں آمرانہ اقدام مسترد کرتے ہیں۔

پیمرا کی جانب سے اینکرز اور صحافیوں پر ایک دوسرے کے ٹاک شوز میں جانے پر پابندی من مانی ، آمرانہ اور آئین میں شامل آزادی اظہار رائے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

ٹی وی شوز میں مہمان ماہرین اور تجزیہ کار کون ہونے چاہئیں یہ فیصلہ کرنا PEMRA کے دائرہ کار میں نہیں ہے۔

سربراہ آئی جے ایس حامد علی بہلول نے کہا کہ اس منطق کا مطلب ہے کہ اب فیصلہ ریاست کرے گی کہ کون بات کر سکتا ہے اور کس موضوع پر بات کر سکتا ہے۔ ریاست اور اس کے اداروں کا کسی صحافی کی رائے کو غلط ثابت کرنے اور تجزیہ کار کے اہل ہونے یا نہ ہونے سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے۔

PEMRA
کا نوٹیفکیشن تنقید اور اختلاف رائے کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔ یہ قومی مفاد کے نام پر ادیبوں، ماہرین تعلیم ، فنکاروں اورمیڈیا کی آزادی پر لگائی جانے والی قدغن کا ایک حصہ ہے۔

ہم ان پابندیوں کا ذمہ دار وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں قائم تحریک انصاف کی حکومت کو قرار دیتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی آزادی پر لگائی جانے والی قدغن اور پابندیوں کے پیچھے جو بھی ادارہ ہو ، منتخب حکومت اپنے دور میں ریاست کی تمام اکائیوں کی تمام کارروائیوں کے لئے آئینی طور پر جوابدہ ہے۔

ہمارے پاس تیزی سے بڑھتی ہوئی سنسرشپ کے شواہد موجود ہیں۔ روزانہ ہدایات دی جاتی ہیں کہ کیا شائع یا نشر کیا جاسکتا ہے،اور کیا نہیں کیا جاسکتا ، کون بول سکتا ہے اورکون نہیں بول سکتا ہے۔ ہم مزاحمت کریں گے اور ان پابندیوں کا مقابلہ کریں گے۔

ہم انہیں میڈیا کی مزاحمت کی طویل تاریخ یاد دلاتے ہیں۔ ہم نے جمہوریت اور جمہوری اقدار کی بحالی کے لئے آمریت کا مقابلہ کیا ہے۔ ہم نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ ہم نے اپنے کئی سو ساتھیوں کی جانیں گنوا دی ہیں اور ہزاروں صحافیوں کو مشکلات،دھمکیوں،ہراسمنٹ اور بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہم لڑنا بخوبی جانتے ہیں۔

جمہوریت کی بقا کے لئے اختلاف رائے انتہائی اہم ہے۔ اس کے تحفظ کے لئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر مہم چلانے سمیت ہمارے پاس تمام آپشن موجود ہیں۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ PEMRA کا نوٹیفکیشن فی الفور واپس لیا جائے اور صحافیوں کو ہراساں کئے جانے اور ہدایات جاری کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں